ڈرامہ سیریل’’میرے پاس تم ہو‘‘کی آخری قسط کو فوری روکا جائے، عدالت سے اہم خبر آگئی

لاہور(نیوز ڈیسک) تنقید کا نشانہ بننے والے مقبول ڈرامے ’میرے پاس تم ہو‘ کی آخری قسط کو نشر ہونے سے رکوانے کے لیے پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی خاتون نے عدالت سے رجوع کرلیا۔’میرے پاس تم ہو‘ کی پروڈکشن ٹیم اور اسے نشر کرنے والے ٹی وی چینل ’اے آر وائے ڈیجیٹل‘ نے ڈرامے کی آخری قسط رواں ماہ 25 جنوری کو ٹی وی سمیت سینما گھروں پر دکھائے جانے کا اعلان کر رکھا ہے اور شائقین ڈرامے کی آخری قسط دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں۔اگرچہ ’میرے پاس تم ہو‘ میں خواتین کو منفی کردار میں دکھائے جانے پر اس پر کئی ماہ سے تنقید کا سلسلہ جاری ہے تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی خاتون ڈرامے کے خلاف عدالت میں گئی ہیں۔

لاہور کی ماہم جمشید نامی خاتون نے اپنے وکیل کے توسط سے سول کورٹ میں ڈرامے کی آخری قسط کو نشر کرنے سے روکنے سے متعلق درخواست دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مذکورہ ڈرامے میں خواتین کی تضحیک کی گئی اور انہیں منفی کردار میں دکھا کر سماج میں خواتین کی غلط عکاسی کرنے کی کوشش کی گئی۔ماہم جمشید کے وکیل ماجد چوہدری نے دائر درخواست میں پیمرا قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ پہلی بار پاکستان میں کسی ڈرامے کی آخری قسط کو بڑے پردے پر بھی دکھائے جانے کا اہتمام کیا گیا ہے۔درخواست میں ماہم جمشید نے مؤقف اختیار کیا کہ ’میرے پاس تم ہو‘ کے ذریعے عورت کو معاشرے میں کم تر دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔خاتون نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ ڈرامے نے پاکستانی خواتین میں مثبت خیالات پیدا نہیں کیے بلکہ ڈرامے کے ذریعے ‘زن بیزاری’ کو پروان چڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔درخواست میں خاتون نے ڈرامے کے لکھاری خلیل الرحمٰن قمر کی جانب سے خواتین کے حوالے سے دیے گئے غلط بیانات کا ذکر بھی کیا۔ماہم جمشید نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو ہدایات دے کہ ڈرامے کی آخری قسط کو نشر کرنے سے روکا جائے۔عدالت کو یہ استدعا بھی کی گئی کہ عدالت ڈرامے کی آخری قسط کو سینما گھروں میں دکھائے جانے کے حوالے سے بھی احکامات جاری کرے۔خاتون کی درخواست پر عدالت نے پیمرا، فلم سینسر بورڈ، ٹی وی چینل کی انتطامیہ اور ڈرامے کی پروڈکشن ٹیم کو طلب کرلیا۔