آئندہ 25سالوں میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ہر کا م کرنے کی ضرورت ہے، ندیم بابر

اسلام آباد(وہاب علوی سے)حکومت اگلے 25سالوں کیلئے توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے کام کر رہی ہے جس کے تحت ملک بھر میں بجلی، آئل، گیس صارفین کو سستے داموں ملے گی ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے پڑولیم ندیم بابر نے انرجی اپڈیٹ کے تحت منعقدہ پہلی عالمی ایل این جی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر چیئرمین آرگنائزنگ کمیٹی محمد نعیم قریشی، ماہر توانائی سہیل بٹ، سی ای او ڈی ای اے اویس میر،فصیح احمد سی ای او پاکستان گیس پورٹ لمیٹڈ،ایم ڈی ہناس ایل این جی کرسٹوف ملاٹ، سی ای او گرینڈا یو ایس اے محسن صدیقی، جی ایم اینگرو ایلنجی عمار شاہ، ڈائریکڑ پی این ایس سی خرم مرزاو دیگر نے بھی خطاب کیا۔

ندیم بابر کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ملک میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کیساتھ صارفین سے سستی قیمتوں میں پہچانا بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے نجی شعبے کیلئے توانائی میں سرمایہ کاری کیلئے بہت سے مسائل حل کر دیئے ہیں تاکہ سرمایہ کار آسانی سے کاروبار کر سکیں۔انہوں نے بتایا کہ اب ایل این جی کے حوالے سے بھی نجی شعبے کو کام کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے اور وہ پائپ لائین سے لے ٹرمینل بنانے تک اس میں کام کر سکتے ہیں اور حکومت اس سلسلے میں نجی شعبے کی بھر پور معاونت کرے گی۔انہوں نے کہا ملک میں اگلے 10سے 15پندرہ سالوں میں بجلی کی پیداوار میں مذید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے متبادل توانائی کے شعبے کو بھی ملک کی بجلی اور پڑولیم کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئلے کی ٹیکنالوجی ختم ہو چکی ہے جبکہ اگلے 20سالوں میں آئل بھی ختم ہو جائے گاصرف گیس رہ جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ہمارا ایل این جی شعبہ ابھی ناکارہ ہے ہمیں اسے کارآمد بنانا تاکہ اس کی قیمت کم ہو جائے اور ہمیں صارفین کو کم قیمت پر توانائی دینے کیلئے تمام ذرائع استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر اپنے تعارفی خطاب میں چیئرمین آرگنائزنگ کمیٹی محمد نعیم قریشی نے کہا اس کانفرنس کے انعقاد کا مقصد ملک میں توانائی کے حوالے سے مسائل اور ایل این جی کو ملک میں توانائی کے بحران کے حل کیلئے استعال کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس سے ملک میں جاری توانائی بحران کے خاتمے کیلئے مدد ملے گی۔انہوں نے کہا اس کانفرنس میں ایل این جی کے حوالے سے تمام فوائد اور نقصانات پر بات کی جائے گی اور شرکاء کو پاکستان میں ایل این جی کی درآمد، ٹرانسمیشن، ترسیل، قیمتوں سمیت تمام امور کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔اس موقع پر توانائی ماہر سہیل بٹ نے کہا کہ ایل این جی توانائی کا تیزی سے بڑھتا ہوا ذریعہ ہے، انڈیا اور چائنا سب سے زیادی ایل این جی درآمد کرنے والے ملکوں میں شامل ہیں۔انہوں نے کہا متبادل توانائی سے حاصل کی جانے والی توانائی کم قیمت کی ہے اور ایل این جی میں قیمتیں زیادہ ہیں اسی وجہ سے اس شعبے میں مشکلات کا سامنا ہے۔اس موقع پر ڈی ای اے کے سی ای او اویس میر نے کہا کہاکہ ایل این جی کو استعمال کرنے کیلئے ایک جامع پالیسی کی ضرورت ہے۔