تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات پر جہانگیر ترین بھی بول پڑے

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) یہ ہماری کمزوری ہے کہ دو سینئر وزرا آپس میں لڑتے ہیں، وزرا کے بیانات سے پارٹی کی ساخت کو نقصان ہو رہا ہے، لوگ کہہ رہے ہیں کہ سازش ہو رہی ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹر ویو دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رکن جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ فواد چوہدری کو وزیراعلیٰ کے خلاف باتیں نہیں کرنی چاہیے تھیں، یہ ہماری کمزوری ہے کہ دو سینئر وزرا آپس میں لڑتے ہیں، وزرا کے بیانات سے پارٹی کی ساخت کو نقصان ہو رہا ہے، لوگ کہہ رہے ہیں کہ سازش ہو رہی ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔

انکا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ق کے ساتھ تمام معاملات طے پا گئے ہیں، جی ڈی اے کے ساتھ کوئی ایشو نہیں ہے، سب سے پہلے ایم کیو ایم نے استعفیٰ دیا تھا، ایم کیوایم حکومت کی سپورٹ سے پیچھے نہیں ہٹی، فروغ نسیم کو ایم کیو ایم نے نہیں عمران خان نے نامزد کیا تھا۔انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اور ق لیگ کے تظفظات دو کر دیئے گئے ہیں، باہمی مشاورت سے ایک نوٹ قائم کر لیا ہے، باہمی رائے ہو گیا ہے اس لیے اب کوئی ایشو نہیں ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل سینئر رہنما جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ اتحادیوں کے منانے کے لیے کوششیں کررہے ہیں، ق لیگ کے مطالبات درست ہیں، انکے ساتھ بات کی جارہی ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ پنجاب حکومت میں کمزوریاں موجود ہیں، پنجاب میں عمران خان خود بھی متحرک ہیں، انھوں نے پنجاب کے لیے کافی کام کیا ہے، جلد ہی پنجاب میں تبدیلی نظرآنی شروع ہو جائیگی۔انھوں نے کہا تھا کہ کراچی کے ووٹرزنے پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ دیا، انکی مشکلات کو حل کیا جائیگا۔ اس حوالے سے سپیکر پنجاب اسمبلی کے صاحبزادے مونس الہیٰ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی سے الیکشن میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ بھی ہوئی تھی، بہاولپور میں طارق بشیر چیمہ کے مقابلے میں ایک خاتون کو ٹکٹ دیا تھا۔ انھوں نے کہاتھا کہ ق لیگ کے دوسرے وزیر کا حلف نہیں اٹھوایا جا رہا تھا، ہمارے وزیر حافظ عماد کی وزارت میں بھی مداخلت کی جارہی تھی، حافظ عماد تنگ آکر وزارت سے مستعفیٰ ہو گئے تھے۔انکا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی سے ق لیگ نے تحریری معاہدے کیے تھے، اگر تحریک انصاف کی کشتی ڈوبے تو ہماری بھی ڈوبے گی، پی ٹی آئی سے دوبارہ وعدہ کیا کہ ہم معاہدے پر عمل درآمد کرینگے۔

انکا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو واضع کہا کہ ہم وزارت میں دلچسپی نہیں دکھتے، اگر ہم کارکردگی نہیں دکھا سکے تو وزارتوں کا کوئی فائدہ نہیں۔ انکا مزید کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو اختیارات دیے بغیر گورننس نہیں ہو سکتی، پنجاب میں ہمارا کوئی کردار نہیں جنکا ہے ان سے پوچھیں، حکومت اور بیوروکریسی میں ہم آہنگی کے بغیر کام نہیں ہو سکتا، ہم اپنی وزارتوں اور حلقوں تک صلاح دیتے رہتے ہیں، کوئی کام نہیں ہو رہا، معاملات پھنسے ہوئے ہیں، کل الیکشن میں اکھٹے جانا ہے تو معاملات حل ہونے چاہئیں، وسیم اکرم کو ہاتھ باندھ کر میدان میں بھیجیں گے تو کیا کرینگے؟، بظاہر بزدار صاحب کچھ کرنا چاہتے ہیں مگر ہاتھ بندھے ہیں، بات آگے نہ بڑھی تو آگے کا لائحہ عمل طے کرینگے، ایم کیو ایم والوں کی صورتحال زیادہ سنگین ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل عارف حمید بھٹی کا کہنا تھا کہ پرویز الہیٰ اور عثمان بزدار میں حکومت بنانے کا تحریری معاہدہ ہوا تھا، عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ آپ ہمارے ساتھ حکومت بنانے والے ہیں اس لیے معاہدے کوزبانی نہیں تحریری طور پر تشکیل دیا جائے۔ اس تحریری معاہدے کے تحت ق لیگ کو وفاق میں 2 اور صوبے میں بھی 2 وزارتیں دی جانی تھیں، ان وزارتوں کی خصوصیت یہ تھی کہ انکے فیصلوں میں وزیراعلی بھی مداخلت نہیں کر سکتا تھا۔انھوں نے بتایا تھا کہ اس معاہدے کے تحت صوبہ پنجاب کے 3 اضلاع اور 3 تحصیلوں میں جہاں ق لیگ جھیتی تھی وہاں پر انتظامیہ انکی مرضی سے لگائی جانی تھی، جن وزارتوں کی بات ہو رہی ہے ان میں پرویز الہیٰ کا نام باقاعدہ طور پر شامل تھا۔ انکا کہنا تھا کہ اس بات کی تصدیق پرویز الہیٰ کے بیٹے مونث الہیٰ نے بھی کی ہے۔ مونث الہیٰ کا کہنا ہےکہ انھوں نے خود وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے، جس میں انکا مطالبہ تھا کہ انکے ساتھ کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں۔