عثمان بزدار کو کرسی ہاتھ سے جانے کے لالے پڑگئے

لاہور(نیوز ڈیسک)کرسی بچانے کی فکر میں عثمان بزاد بھی میدان میں، پاکستان تحریک انصاف کے 20 ناراض اراکین کو کل ملاقات کے لیے بلا لیا، ناراض اراکین نے وزیراعلیٰ کو اپنے مطالبات کے حل کے لیے وقت دے رکھا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے پاکستان تحریک انصاف کے 20 ناراض اراکین صوبائی اسمبلی کو کل باہمی گفتگو کے لیے بلایا ہے۔عثمان بزدار سے ملاقات میں ناراض اراکین اسمبلی اپنے مطالبات کے بارے میں بتائینگے۔ ذرائع کا مزید بتانا ہے کہ ناراض اراکین نے پنجاب کے وزیراعلیٰ کو تحفظات دور کرنے کے لیے فروری تک کا وقت دیا ہوا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل پنجاب میں مسلم لیگ ق نے عملی طور پر وزارت اعلیٰ سنبھال لی۔مسلم لیگ ق اور چیف سیکرٹری پنجاب کے درمیان اہم میٹنگ میں اختیارات کی تقسیم کا روڈ میپ تیار کر لیا گیا تھا۔جیونیوز کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں مسلم لیگ ق نے عملی طور پر وزارت اعلیٰ سنبھال لی لیکن وزیراعلیٰ عثمان بزدار اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔ مسلم لیگ ق کے رہنما اور چیف سیکرٹری اعظم سلیمان کے درمیان ہونے والی انتہائی اہم میٹنگ میں اختیارات اور ترقیاتی فنڈز کی تقسیم کا روڈ میپ تیار کر لیا گیا تھا۔ جس کا اشارہ مونس الہیٰ نے سینئیر صحافی حامد میر سے گفتگو میں دیا تھا۔اختیارات کی تقسیم پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار پریشان ہیں اور جہانگیر ترین کو شکایت بھی کی ہے۔ بتایا گیا تھا کہ عثمان بزدار اس تبدیلیوں پر خاصے پریشان ہیں کیونکہ اس طرح عملی طور ان کا اختیار صفر ہو جاتا ہے کیونکہ چیف سیکریٹری کو ق لیگ براہ راست ہدایات دے سکے گی اور انہوں نے اپنے سادہ انداز میں جہانگیر ترین کو شکایت کی میں تو پریشانی کی وجہ سے ساری رات سو بھی نہیں سکا۔اطلاعات کے مطابق ق لیگ کو 20 ارب روپے کا ترقیاتی فنڈز فوری جاری کیا جانا تھا۔ پنجاب کی بیوروکریسی کو ق لیگ براہ راست ہدایات دے سکے گی۔ حال ہی میں مونس الہیٰ کی قیادت میں وفد پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین ،پرویز خٹک،عثمان بزدار اور اعظم سلیمان سے ملاقات کی تھی۔ جس میں جہانگیر ترین نے ق لیگ کی اختیارات کے حصول کے معاملے میں شرائط کو من و عن تسلیم کر لیا تھا اور فوری اقدام کی یقین دہانی کراتے ہوئے چیف سیکریٹری اعظم سلیمان کو ہدایات دیں تھی کہ مونس الہیٰ کے ساتھ مل کر روڈ میپ تیار کیا جائے۔