نیااحساس پاورٹی انڈیکس غربت پر قابو پانے کیلئے اہم قرار

اسلام آباد(پ ر) ڈائریکٹر آکسفورڈ آن پاورٹی اینڈ ہیومن ڈویلپمنٹ پروفیسر ڈاکٹر سبینہ الکائر نے آج احساس کے تحت کثیرالجہتی غربت اور ایکسلریٹڈ پاورٹی ریڈکشن پر ایک گول میز کانفرنس میں غربت کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ غربت کے اندازے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے، ڈاکٹر الکائر نے کہا،” غربت کی نوعیت کا اندازہ لگانے کیلئے غریبوں کو درپیش محرومیوں کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے”۔ انہوں نے کثیر الجہتی پاورٹی انڈیکس (ایم پی آئی)2019کے نمایاں نتائج کو جنوبی ایشیاء، چین اور لاطینی امریکہ کے مخصوص حوالے کیساتھ پیش کیا۔
ڈاکٹر الکائر غربت کا اندازہ لگانے اور فلاح و بہبود کے ایک نئے طریقہ کار پر کام کررہی ہیں جو آمدنی اور ترقی پر روایتی توجہ سے بالا تر ہے۔ پیمائش کے اس کثیر الجہتی طریقہ کار میں معاشرتی اہداف، جیسے صحت، تعلیم، غذائیت، معیار زندگی اور زندگی کے دیگر قیمتی پہلو شامل ہیں۔ گول میز تبصرہ 2020میں ایم پی آئی کی پہلی پیش رفت سے آگاہی فراہم کرنے میں مدد کرے گا، ساتھ ہی یہ بھی اندازہ لگائے گا کہ احساس کے ذریعے غربت میں کمی پر پیش رفت کیلئے ایم پی آئی کو کس طرح استعمال کیا جاسکتا ہے۔ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا، "پاکستان غربت کا اندازہ لگانے کیلئے آمدنی اور کثیر الجہتی میٹرکس دونوں استعمال کرے گا۔ احساس اس بات کو یقینی بنائے گا کہ انسداد غربت کے تمام تر عوامل کے درست اعدادو شمار کی نگرانی اور جائزہ لیا جائے ۔تب ہی ہم مقامی سطح پر کثیر الجہتی غربت کو کم کرنے کیلئے شواہد پر مبنی پالیساں مرتب کرنے کے قابل ہوںگے "۔
وزارت منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات نے 2016میں پاکستان کی نیشنل ایم پی آئی کا آغاز کیا تھا تا کہ غیر مالیاتی نقطہ نظر کیساتھ کھپت کے اعدادوشمار پر مبنی غربت کے تخمینے کو پورا کیا جاسکے۔ انڈیکس نے قومی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کو تعلیم، صحت اور معیار زندگی کے اشاریے پر مبنی اپنے اضلاع میں غربت کے اہم عناصر کو سمجھنے اور ان کا جواب دینے کیلئے ایک متبادل ذریعہ پیش کیا۔
آج گول میز کانفرنس میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کے رہنمائوں ، ماہرین تعلیم اور اقوام متحدہ کی ایجنسیوں نے 2020کے کثیر الجہتی غربت انڈیکس(ایم پی آئی) کی ترقی اور پاکستان میں تیز، مضبوط اور دیر پا انسداد غربت انٹروینشنز کو استعمال کئے جانے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر ڈپٹی ریزیڈینٹ یو این ڈی پی الیونا نیکولٹیا، ممبر قومی اسمبلی عائشہ غوث پاشا اور پالیمانی سیکرٹری وزارت منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات کنول شوزیب بھی موجود تھیں۔