پاکستان صرف امن کے خواہاں ممالک کے ساتھ ہی تعلقات رکھے گا، وزیراعظم

ڈیووس (نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کا ورلڈ اکنامک فارم سے خطاب، سخت فیصلوں کی وجہ سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، پاکستان کی سب سے بڑی نوجوان آبادی کو نظرانداز کیا گیا، نوجوان کو ہنر مند بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، سعودی عرب اور ایران میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ تفصیلات کےمطابق ورلڈ اکنامک فارم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان عمران خان کا کہنا ہے کہ پچپن سے ہی مجھے پاکستان سے پیار ہے، کے پی حکومت سے شجرکاری مہم کا آغاز کیا، شہروں میں آلودگی خاموش قاتل بن رگئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کے پہاڑی علاقے بہت خوبصورت ہیں، میں نے بچپن میں ہمالیہ کے پہاڑوں پر چھٹیاں گزاریں، خواہش رہی جب موقع ملا اپنے ملک کو فلاحی ریاست بناؤنگا، کے پی میں بلین ٹری منصوبے کا آغاز کیا۔انکا کہنا ہے کہ لاہور شہر میں گرشتہ برسوں میں 70 فیصد سے زیادہ درخت کاٹ دیے گئے ہیں، میری حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی بھی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، دہشتگردی کے خلاف 70 ہزار پاکستانیوں قربانیان دیں، ہم صرف امن کے خواہاں ممالک کے شراکت دار ہونگے، امن اور سلامتی کے بغیر معاشی استحکام نا گزیر ہے، افغانستان سے روس کے جانے کے بعد شدت پسند گروپ متحرک ہو گئے، نائن الیون کے بعد پاکستان کو ایک بار پھر مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا۔انھوں نے کہا کہ سخت فیصلوں کی وجہ سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، پاکستان کی سب سے بڑی نوجوان آبادی کو نظرانداز کیا گیا، نوجوان کو ہنر مند بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، سعودی عرب اور ایران میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی گئی، بدقسمتی سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات درست نہیں۔ انکا کہنا ہے کہ افغانستان میں امن آئے گا تو وسط ایشیا میں تجارت ہوگی، خطے میں امن استحکام سے تجارت بڑھے گی اور خوشحالی آئیگی، 2018-19 سیاحت کے حوالے سے بہترین سال ہیں، پاکستان میں مذہبی سیاحت کے بے پناہ مواقعے ہیں، سکیورٹی فورسز کی کوششوں سے دہشتگردی پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے، افغان طالبان اور حکومت بھی مل کر بیٹھ سکتے ہیں، افغانستان مسئلے کو کوئی حل نہیں، مذاکرات کے ذریعے سے ہی حل نکالا جا سکتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ زرعی شعبے میں ترقی کے لیے چینی ٹیکنالوجی سے استفادہ چاہتے ہیں۔