پنجاب میں تبدیلی کی تیاریاں، ن لیگ کا چوہدری برادران سے رابطوں کا انکشاف

لاہور(نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثناءاللہ نے پاکستان تحریک انصاف حکومت کی اہم اتحادی مسلم لیگ (ق) سے رابطوں کا انکشاف کیا ہے. نجی ٹی وی چینل کے پروگرام کے دوران انہوں نے کہا کہ ق لیگ کو پی ٹی آئی سے شکایتیں ہیں جبکہ خود حکمراں جماعت میں بھی پنجاب میں عثمان بزدار کی تبدیلی کی خواہش پائی جاتی ہے رانا ثناءاللہ نے کہا کہ اگر ق لیگ تحریک انصاف سے اتحاد کا خاتمہ کردیتی ہے تو اس کے ساتھ مل کر جمہوری اور پارلیمانی انداز میں پنجاب حکومت گرانے کے بارے میں سوچا جائے گا.خیال رہے کہ حالیہ عرصے میں تحریک کے تقریباً تمام اتحادیوں کی جانب سے شکایتیں سامنے آئی ہیں کچھ روز قبل متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی نے اپنے استعفے کا اعلان کردیا دوسری جانب بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) بھی صوبے میں ترقیاتی کام نہ ہونے پر تحفظات کا اظہار کرچکی ہے.

ق لیگ بھی حکومتی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کرچکی ہے تاہم یہ خبریں بھی سامنے آئی تھیں کہ مسلم لیگ ق نے اپنے اراکین کے لیے ترقیاتی فنڈز جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مونس الہٰی کے لیے وفاقی وزارت مانگی ہے اور اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے انہیں یقین دہانی بھی کروادی ہے یہ بات وزیراعظم عمران خان سے ہونے والی ملاقات میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بتائی اس ضمن میں ذمہ دار ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیراعظم نے وزیراعلی سے استفسار کیا کہ ق لیگ کے تحفظات کیا ہیں؟ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ق لیگ کا مطالبہ ہے کہ ان کے اراکین کو ترقیاتی فنڈز دیے جائیں اور وفاقی کابینہ میں مونس الہٰی کو شامل کیا جائے.ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نے وزیراعلیٰ پنجاب سے تفصیلات سننے کے بعد یقین دہانی کرائی کہ ق لیگ کے تمام تحفظات دور کیے جائیں گے دوسری جانب اتحادیوں کی جانب مشکلات کا شکار حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے لیے ایک نئی مشکل کھڑی ہوگئی اور پنجاب میں اس کے ناراض اراکین اسمبلی نے عوامی فنڈز اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی تقسیم میں نظرانداز کیے جانے پر کھل کر ناراضی کا اظہار کیا ہے‘ رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے رکن پنجاب اسمبلی شہاب الدین نے کہا کہ ہم نے گزشتہ ایک دہائی تک شہباز شریف کی حکومت میں امتیازی سلوک کا سامنا کیا ہے اور صورتحال اب بھی کچھ مختلف نہیں کیونکہ ہمارے حلقوں کو ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے نظر انداز کیا جارہا ہے.انہوں نے بتایا کہ تمام 20 ایم پی ایز نے نہ ہی فارورڈ بلاک بنایا ہے اور نہ ہی پارٹی قیادت کو ٹف ٹائم دینا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ وہ اور دیگر اراکین اسمبلی نے پارلیمنٹ کی بالادستی کی خاطر وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے دو مرتبہ ملاقات کی اور اپنی تشویش کا اظہار کیاان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ نے ہماری تشویش دور کرنے کی یقین دہانی کرائی تاہم تاحال کوئی اقدامات نہیں کیے گئے شہاب الدین کا کہنا تھا کہ ہم عثمان بزدار سے آئندہ روز ایک اور ملاقات کریں گے.

واضح رہے کہ یہ 20 ایم پی ایز کا تعلق ڈی جی خان، بھکر، لیہ، وہاڑی، حافظ آباد، چنیوٹ، سرگودھا اور راولپنڈی سے ہے شہاب الدین کا کہنا تھا کہ ہم اپنے اضلاع میں لاہور اور فیصل آباد جیسی ترقی دیکھنا چاہتے ہیں تحریک انصاف میں ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے اراکین اسمبلی میں وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی قیادت میں کام کرنے میں ناکامی کی وجہ سے تشویش کی لہر بڑھ رہی ہے.ایک روز قبل پاکستان تحریک انصاف کے اہم ترین اتحادی مسلم لیگ (ق) نے بھی متعدد اضلاع میں مکمل انتظامی اختیارات نہ دینے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا اور حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت دی تھی رابطہ کرنے پر تحریک انصاف پنجاب کے صدر اعجاز چوہدری کا کہنا تھا کہ پارٹی کے ایم پی اے کی تشویش پر وزیر اعلیٰ نے فوری نوٹس لیا ہے اور وہ اس پر کام کر رہے ہیں انہوں نے بتایا کہ تحریک انصاف کی حکومت اور پارٹی قیادت ان 20 ایم پی ایز سے رابطے میں ہے انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ مسئلہ اس لیے ہے کیونکہ حکومت کو مالیاتی پیچیدگیوں کا سامنا ہے اور گزشتہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ملک کا دیوالیہ نکال دیا تھا.ان کا کہنا تھا کہ جماعت کے تمام اراکین اسمبلی کو ان کا حصہ دیا جائے گامسلم لیگ (ق) کی تشویش کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ق) کے قانون ساز ذمہ دار اتحادی ہیں انہوں نے ایک ہفتے کی مہلت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف ان سے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کی امید نہیں رکھتی .

دریں اثنا پنجاب کے گورنر چوہدری سرور کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ق) نے نہ ہی پنجاب کے وزیر اعلیٰ کا عہدہ طلب کیا ہے اور نہ ہی عثمان بزدار کو تبدیل کیا جارہا ہے ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ق)، متحدہ قومی موومنٹ، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) حکومت کے ساتھ کھڑی ہیں اور انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ حکومت کو گرانے کی کسی بھی تحریک کا حصہ نہیں بنیں گے.انہوں نے کہا کہ عثمان بزدار کو جب تک پنجاب اسمبلی اور وزیر اعظم عمران خان کی حمایت حاصل ہے، انہیں کوئی خطرہ نہیں پارٹی کے ایم پی ایز کی تشویش کے حوالے سے گورنر کا کہنا تھا کہ انٹرا پارٹی اختلاف رائے ہی جمہوریت کا حسن ہے اور تحریک انصاف آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتی ہے جو جمہوری نظام کا نچوڑ ہے ان کا کہنا تھا کہ اراکین اسمبلی نے اپنے مطالبات/ضروریات سامنے لے کر آئے ہیں کیونکہ وہ منتخب ہونے سے قبل اپنے حلقے کے عوام سے جو وعدے کرکے آئے تھے انہیں پورا کرنا چاہتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت اراکین اسمبلی کے مسائل بات چیت اور اتفاق رائے سے حل کرنے کی یقین دہانی کرائے گی، حکومت کی مصالحتی ٹیم اتحادی جماعتوں سے مسلسل رابطوں میں ہے.رپورٹ کے مطابق ناراض اراکین میں لیہ سے سردار شہاب الدین خان، ڈی جی خان سے سردار محی الدین خان کھوسہ اور خواجہ محمد داؤد، بھکر سے ملک غضنفر عباس چینہ اور عامر عنایت اللہ شاہانی، سرگودھا سے فیصل فاروق چیمہ اور منیب سلطان چیمہ، چنیوٹ سے تیمور لالی، راولپنڈی سے اعجاز خان، حافظ آباد سے جہانگیر بھٹی، وہاڑی سے علی خاکواکی اور محمد افضل، افتخار گوندل، گلریز اصغر چن اور 3 خواتین رکن اسمبلی شامل ہیں.