سی پیک کے خلاف بیان بازی پر چین نے امریکی نمائندہ خصوصی ایلس ویلز کو کھری کھری سنادی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)چین کا کہنا ہے کہ امریکا کو پاکستان کو اتنا خیال ہے تو باتیں کرنے کی بجائے اس ملک میں کیش اور فنڈ لے کر آو، سوال کیا گیا ہے کہ کیاایلس ویلز پاکستان کیلئے امداد،سرمایہ کاری یاٹریڈلےکرآئی ہیں؟ امریکا کو مشورہ ہے پاک چین تعلقات پر الزام دھرنے سے پہلے ماضی دیکھیں کہ انھوں نے پاکستان کیلئے کیا کیا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان میں چینی سفارت خانے کی جانب سے سی پیک کیخلاف مسلسل پراپیگنڈا کرنے والے امریکا کو بھرپور جواب دیا گیا ہے۔ چینی سفارت خانے سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکاکومشورہ ہےپاک چین تعلقات پرالزام دھرنےسےپہلے ماضی دیکھیں کہ انھوں نے پاکستان کیلئے کیاکیا۔

امریکایہ بھی سوچے اس نےپاکستان کیلئے کتنا کرداراداکیا۔کیاایلس ویلز پاکستان کیلئے امداد،سرمایہ کاری یاٹریڈلےکرآئی ہیں؟ امریکاکوپاکستان اورخطے کی ترقی اورخوشحالی کاصحیح خیال ہےتوکیش اورفنڈلائے۔ امریکاباہمی احترام،منصفانہ اورشفاف بنیادپرتعاون کرےنا کہ عالمی پولیس مین کاکردارادا کرے۔ چین اورپاکستان کےتعلقات چٹان کی طرح مضبوط اورنہ ٹوٹنےوالےہیں۔ امریکا کی جانب سے سی پیک میں شامل شامل ایم این ون منصوبے کے حوالے سے عائد کیے گئے الزامات کا بھی جواب دیا گیا ہے۔چینی سفارت خانے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایم ایل ون منصوبہ ابھی منظور نہیں ہوا، منصوبے کی رقم پاکستان کی ضرورت کےمطابق ایڈجسٹ ہوگی۔ دوسری جانب وزیراعظم پاکستان عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ملاقات کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا نے پاکستان کو سی پیک سے پیچھے ہٹنے کے بدلے میں بڑی پیشکش کی۔امریکی پاکستان کوانرجی کے سیکٹر میں بھی سبز باغ دکھا رہا ہے۔امریکا چاہتا ہے کہ پاکستان بھی چائنہ کے خلاف امریکا اور بھارت کے گروپ شامل ہو جائے۔پاکستان امریکا کا ساتھی بن جائے۔ جس کے بعد پاکستان کے بیشتر مسائل حل کر دیئے جائیں گے۔ امریکا کی جانب سے ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر بھی پاکستان کو چھوٹ دلا دی جائے گی۔دوسرا امریکا انرجی سیکٹر میں کام کرنے کو تیار ہو جائے گا۔ امریکا بدلے میں شیل گیس کے منصوبے لگانے کو تیار ہے۔تاہم وزیراعظم عمران خان نے سی پیک سے ہٹنے کی امریکی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔