عجب محبت کی غضبناک کہانی،عاشق نے خود کو محبوبہ سمیت دستی بم سے اڑالیا

دمشق(نیوز ڈیسک)عشق کے سمندر میں ڈُوبنے والا انسان میں اپنے ہوش و حواس گُم کر بیٹھتا ہے۔ ایک بے چین عاشق کی سب سے بڑی آرزو صرف اور صرف اپنی محبوبہ کا حصول ہوتا ہے ۔ اور اگر آگ دونوں طرف برابر کی لگی ہو، مگر سماج اور والدین پریمیوں کے رشتے میں رکاوٹ بننے لگیں تو کئی بار اس کے بہت بھیانک نتائج سامنے آتے ہیں۔ایسا ہی ایک واقعہ شام میں بھی پیش آیا ہے جہاں پر ایک شامی نوجوان اور اس کی محبوبہ نے شادی کی اجازت نہ ملنے پر دستی بم کا دھما کر کے خُود کُشی کر لی۔ العربیہ نیٹ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ شام کے ایک نوجوان حافظ نزار ابو فخرنے اپنی پسند کی لڑکی سے شادی کی اجازت نہ ملنے پر لڑکی سمیت خود کو بم دھماکے میں ہلاک کردیا۔یہ واقعہ ارُدن کی سرحد سے متصل شامی علاقے السویداء میں ‘حفر اللحف’ کے مقام پر پیش آیا۔

23 سالہ حافظ نزار ابو فخر نے 22 سالہ لڑکی کے ساتھ شادی کے لیے اس کے اہل خانہ کو پیغام بھیجا مگر لڑکی کے والدین اس کی شادی کسی اور جگہ کرنا چاہتے تھے۔ جب کہ لڑکی بھی ابو فخر سے شادی کرنا چاہتی تھی۔بائیس سالہ لڑکی حنان عبداللہ ابو فخر یونیورسٹی سے گھر لوٹ رہی تھی کہ راستے میں نزار ابو فخر نے اسے ملاقات کی۔ اس موقع پراس نے اپنے پاس موجود بم کا دھماکا کیا جس کے نتیجے میں دونوں موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔واضح رہے کہ ایک سال قبل ایسا ہی ایک واقعہ السویدا گورنری میں بھی پیش آیا تھا، جہاں رامی خذیفہ نامی ایک نوجوان نے الکفر کے مقام پر ولید صادق نامی شخص کے گھر میں خود کو دھماکے سے اُڑا دیا تھا۔ 19 سالہ خذیفہ ایک 17سالہ لڑکی کے ساتھ شادی کرنا چاہتا تھا مگر لڑکی کے والدین نے اس کے ساتھ بیٹی کی شادی سے انکار کردیا جس پر اس نے لڑکی کے گھر میں جا کرخود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔ دھماکے میں لڑکی کی والدہ بھی شدید زخمی ہوگئی تھیں۔