قومی ادویات پالیسی کا اعلان اگلے دو ہفتوں میں کیا جائے گا، ڈاکڑ ظفر مرزا5 ویں پاکستان فارما سمٹ سے خطاب

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی حکومت نے فارما صنعت کی بہتری کیلئے قومی ادویات پالیسی پر کام مکمل کر لیا ہے اور اسکا اعلان اگلے دو ہفتوں میں کردیا جائے گا یہ اعلان وزیر اعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکڑ ظفر مرزا نے پاکستان فارما سیوٹیکل مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن کے تحت منعقدہ 5ویں پاکستان فارما سمٹ 2020سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ اس منصوبے پر عملدرآمد کرنے کیلئے 5سالہ جامع منصوبہ بھی دیا جائے گا۔اس موقع پر وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد، چیئرمین پی پی ایم اے میاں زکاء الرحمان، سابق وزیر مملکت طارق اکرام، پروفیسر ڈاکڑ ظہیر الدین بابر، چیئرمین سمٹ ڈاکڑ قیصر وحید، فارما صنعت سے علی اکائی، خالد محمود، جاوید غلام محمد، زاہد سعید، عثمان خالد وحید، نصرت منشی، حامد رضا، ہارون قاسم، ڈاکڑ شہزاد خان، ڈاکڑ عزیر ناگرا و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ ڈاکڑ ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ حکومت فارما صنعت کی ترقی کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور اس میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جارہا ہے۔انہوں نے مذید کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو چلانے کیلئے قابل لوگوں کو لایا جا ئے گا تاکہ اتھارٹی کو بہتر انداز سے استعمال کیا جا سکے۔انہوں نے فارما صنعت سے درخواست کی کہ وہ غیر قانونی طریقوں سے ادویات کی فروخت پر پابندی لگائیں۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں مشیر تجارت نے کہا کہ حکومت ملک بھر میں برآمدات بڑھانے کی بھر پور کوشش کر رہی ہے اور اس سلسلے میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکسائل صنعت برآمدات کے حوالے سے سب سے اوپر تھی مگر اب نئے صنعتیں بھی اس میں شامل ہو رہی ہیں اور ان میں فارما کی صنعت اہم ہے۔انہوں نے کہا فارما کی صنعت کی برآمدات بڑھانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں افریقی ممالک سب سے اہم ہیں حکومت چاہتی ہے کہ افریقی ممالک کے ساتھ تجارت میں اضافہ کیا جائے اور فارما کیلئے یہ ایک اہم مارکیٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک خصوصی فارما سیوٹیکل پروموشن کمیٹی قائم کی جا رہی ہے جس کا کام ادویات کی برآمدات پر کام کرنا ہوگا۔انہوں نے کہ فارما صنعت کو 300ملین کی برآمدات کو 3بلین کرنا چاہئے یہ ایک اہم سنگ میل ہوگا۔پی پی ایم اے کے چیئرمین میاں زکاء الرحمن نے کہا کہ پاکستان کی فارما انڈسڑی مسلم ممالک میں نمبر ایک پر ہے یہاں 98فیصد ادویات مقامی طور پر تیار کی جاتی ہیں۔فارما صنعت میں پچھلے دو سالوں میں ترقی دیکھی گئی ہے۔انہوں نے کہ افریقی ممالک میں ادویات کی درآمدات ایک بہترین موقع ہوگا کہ ہم فارما کی صنعت کو اور اوپر کے کر جائیں۔اس موقع پر سابق وزیر مملکت طارق اکرام نے کہا کہ پاکستان کی فارما انڈسڑی میں دیگر ممالک میں ایکسپورٹ کرنے کی بھر پور صلاحیت موجود ہے اور اس کے منافع میں آسانی سے اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ گذشتہ روز اس حوالے سے ایک ورکشاپ بھی منعقد کی گئی جس میں ادویات کے ماہر پروفیسر ظہیر الدین بابر نے شرکاء کو تربیت فراہم کی جبکہ اس موقع پر ڈاکڑ قیصر وحید، ہارون قاسم، میاں زکاء الرحمن و دیگر نے بھی خطاب کیا۔