کیپیٹل ٹی وی کے کیمرہ مین فیاض کی وفات ۔۔۔ تحریر : مدثر چوہدری

کیمرہ مین فیاض اس دنیا سے چلا لیکن بہت سارے سوالات ایک چھوڑ گیا فیلڈ کا اک تعارف موجود تھا ہر بار مسکرا کر ملتا تھا آخری بار شائد پاکستان سری لنکا کے درمیان ہونے والے ٹیسٹ کے دوران راولپنڈی سٹیڈیم میں ملے تھے کچھ باتیں لکھتے ہاتھ بھی کانپتے ہیں اور دل خون کے آنسو روتا ہے اک محنتی آدمی جو حلال رزق کمانا چاہتا ہے محنت بھی کرتا ہے لیکن۔ بےحس مالکان اور متعلقہ آفس میں اوپر کے عہدوں پر کام کرنے والے گنتی کے چند ناسور انکی حلال کی ہوئی محنت کو کیسے حرام کر کے کھا جاتے ہیں یہ کیپٹل ٹی وی اور نوائے وقت جیسے اداروں میں جھانک کر دیکھئے میں خود تنخواہ دار انسان ہوں جانتا ہوں کہ 10 تاریخ کے بعد۔ تنخواہ اگر آئے تو کتنا مشکل ٹائم ہوتا ہے بچوں کی فیسیں گھر کا کرایہ کچن پٹرول سب پہاڑ لگنا شروع ہو جاتے اور پھر ضرورت پوری کرنے کے لیے ہر دوست کو تنگ کرنا یہ اپنی کہانی ہے لیکن فیاض کی کہانی کیا ہے کسی کو کچھ پتا ہے نہیں کبھی بھی نہیں ایک کیمرہ مین کی کتنی تنخواہ ہوگی وہ بھی کیپٹل جیسے گندے ادارہ میں لیکن مرحوم پھر بھی اپنے رزق کو حلال بنانے کی خاطر لگا رہا لیکن۔ افسوس صد افسوس اور لعنت ایسے تمام مالکان ایڈیٹرز بیورچیفس پر لعنت جو خود تو حرام کے پیسوں سے مزے کی زندگی گزارتے ہیں۔
لیکن اپنے معصوم مجبور ورکرز کی خون پسینے کی کمائی دس دس ماہ نہیں دیتے جوان فیاض دس ماہ سے کس کرب میں گزارے ہوں گے کتنی بار گھر ماں نے پوچھا ہو گا کہ فیاض پیسے ملے ہر بار کیا جواب دیتا ہوگا میرے پاس تو الفاظ نہیں۔ آپ لکھ سکتے ہیں کرب درد سہتے سہتے آخرکار اس سکون والی جگہ پر چلا گیا جہاں کا ارشاد ہمارے پیارے وزیر اعظم نے پچھلے دنوں کیا تھا کہ سکون صرف قبر میں ہے ہم کیا کرسکتے تھے کیا کرنا چاہیے تھا کیا جو کررہے یہ ہی کافی ہے نہیں بالکل بھی نہیں۔ ابھی جنازہ اٹھا نہیں تھا چند لیڈران اکرام جن کو شائد اس لاش کا انتظار تھا مظاہرہ کا اعلان کردیا مظاہرہ کیسا ہوا سب نے دیکھا لاش بھی بیچی تو یہ رونا رو کر کہ دو بڑے میڈیا گروپ کے اشتہارات بند ہیں میڈیا کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے جتنے اس مظاہرہ میں شریک تھے ایک بھی اس کیمرہ مین جس کی لاش پر رونا رو رہے تھے اپنے مفادات کا اسکے جنازہ میں شرکت نا کرسکے قبر کی مٹی خشک نا ہوئی اور سیاست پھوٹ کر باہر آگئی کیپٹل والے چند کتوں نے دو ماہ کی تنخواہ اس رات اسکی اماں کو دی پھر اگلے دن انکے مطابق دس ماہ کی تنخواہ گھر والوں کو دے دی اور دل کا عارضہ تین سال سے لاحق کا تھا کا لیٹر جاری کر دیا۔ او کتے کے بچو یہ لیٹر لکھنے والے لکھوانے والے اور سائن کرنے والے تم مر کیوں نہیں گئے اپنے ایک ساتھی محنتی ساتھی کے بارے میں یہ جھوٹ لکھتے ہوئے تین سال سے اگر وہ مریض تھا تو کوئی ایک گولی لیکر دی کوئی ایک بل دکھا دو جو اس نے کلیم کیا ہوا میرے دعا ہے انشاء اللہ آپ کو جو بھی اس کے قتل میں شامل ہو ایڑیاں رگڑتے ہوئے مرو گےفیس بک کھولیں ٹوئیٹر کھولیں یا واٹس ایپ گروپس ہمدردی کا خزانہ بھرا پڑا ہے مجھے دو سو پرسنٹ یقین ہے کہ 99 پرنسٹ نام نہاد لیڈران اسکو جانتے بھی نہیں تھے، اور ایشو بھی انکا سنا سنایا تھا جس پر تقاریر کرتے رہے اتفاق اتحاد کیا ہوتا ہے لعنت بھیج کر اسلام آباد کے صحافی لکھ دیں سب سمجھ جائیں گے چند مفاد پرست عہدہ پرست مال پرست اور ہوس پرست لیڈران کی وجہ سے آج ہماری کمیونٹی کا حال برا نہیں برا ترین ہے جس مالک ایڈیٹر بیور چیف کا دل چاہتا وہ ورکر کو ذلیل کر کے نکال باہر کرتا ہے سال سال تنخواہ کوئی نہیںدیتا لیکن ادارہ چل رہا ہے کروڑوں کما رہے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔
اک ہی امید تھی کہ اکھٹے ہوتے انکا ناطقہ بند کرتے ورکر کو حق لیکر دیتے لیکن افسوس در افسوس میرے سے بہت سے اپنے گروپ اور دوسرے گروپ کے لوگوں کا اختلاف ہوتا ہے میرے دفتر تک بھی جاتے ہیں لیکن میں ہوں کہ سچ لکھنے سے باز نہیں رہ سکتا میں افضل بٹ شکیل انجم ناصر زیدی عامر بٹ سید عامر سجاد انور رضا مبارک زیب آصف علی بھی طارق چوہدری شکیل اقرا پرویز شوکت فاروق فیصل خان سے گزارش ہے بس کر دیں جب سارے مرجائیں گے تو اپکو کون پوچھے گا جس دن یہ سانحہ ہوا طے یہ پایا تھا سب ملکر اسکا سدباب کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن۔ وہی ہوا جس کا یقین تھا کہ اگر افضل بٹ کے ساتھ ملکر مظاہرہ کیا تو شائد ہمیں کوئی نہیں پوچھے گا حالانکہ افضل بٹ صاحب کو جب بھی موقع ملا پہلے مخالفین کو سٹیج پر بٹھایا بلکہ ساتھ بٹھایا لیکن بعض اور مفادات نے مرحوم فیاض کا کیس بھی کمزور کیا کاش اے کاش ورکرز کے معاملہ میں ہم اکھٹے ہوتے پورا شہر اکھٹا ہوتا تو آج شائد فیاض ژندہ ہوتا افضل بٹ صاحب اور ناصر زیدی صاحب جیسے لوگوں کو اسلام کہ ہمت نہیں ہارے پورا سال اپنے تئیں کوشش کرتے رہتے ہیں کہیں حق مل بھی جاتا اور ہیں سے ناکامی بھی لیکن ہمت نہیں ہارتے ۔
یہاں بھی کل فیاض کے اسی آفس کے باہر مظاہرہ کیاگیا جہاں سے اسکو دس ماہ سے تنخواہ نہیں ملی تھی سب دوستوں نے بھرپور شرکت کی لیکن یہ کافی نہیں۔ بٹ صاحب ناصر زیدی صاحب آگے بڑھیں۔ مزید کسی کی موت کا انتظار نا کریں بہت سے اداروں نے تنخواہوں کی وجہ سے محنتی معصوم مجبور ورکرز کو یرغمال بنا رکھا ہے لوگ زہنی مریض بنتے جارہے ہیں دل کا مرض تو عام ہو گیا اچھے خاصے پرسنالٹی قلات دوست جیب میں پیسے نا ہونے کی وجہ سے منہ چھپا کر سر جھکا کر پاس سے گزر جاتے ہیں پلیز آگے بڑھیں سب کا ڈیٹا اکھٹا کریں اسکی بات متعلقہ حکام سے کریں انکے اکاوئٹس سے پیسے نکلوائیں اور خاص کر دوست نما ٹاوٹوں کو بے نقاب کریں تاکہ کسی مالک کی جرائت نا ہوسکے کہ کسی ورکر کا حق کھائے۔