آزاد کشمیر حکومت مقبوضہ کشمیر کی آزادی نہیں چاہتی، راجہ فاروق حیدر مایوسیاں پھیلا رہے ہیں، عظمیٰ گل

راولپنڈی( فیصل اظفر علوی اور اصغر حیات سے) آزاد کشمیر حکومت بھارتی زیر تسلط کشمیر کی آزادی نہیں چاہتی،وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر پاکستانی حکومت اور عوام سے گلے شکوئوں کی بجائے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے عملی اقدامات اٹھائیں، ان خیالات کا اظہار سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) حمید گل مرحوم کی صاحبزادی اور معروف سماجی رہنما عظمیٰ گل نے کل یہاں روزنامہ ’’مبلّغ‘‘ اور پاک کشمیر نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بحیثیت پاکستانی میں روز اول سے کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کیلئے ہر فورم پر آواز اٹھاتی آئی ہوں، چند روز قبل جب تحریک آزادی کشمیرکے حوالے سے سرگرمیاں عروج پر تھیں تو ان دنوں میری والدہ محترمہ کا انتقال ہو گیا تھا اور اس عظیم سانحے کے باوجود میں نے اپنا غم بھلاتے ہوئے دنیا کے طویل ترین پرچم کی رونمائی اور یکجہتی کشمیر ریلی میں شرکت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں کوئی ایسی مثال نہیں کہ ایک قوم دوسری ریاست یا ملک کا جھنڈا اٹھائے لیکن کشمیریوں کی پاکستان سے محبت کا ثبوت یہ بات بھی ہے کہ کشمیریوں نے بد ترین بھارتی مظالم کے باوجود بھارتی زیر تسلط کشمیر میں ہمیشہ پاکستان کا پرچم بلند کیا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ہم نے پھول کے جواب میں پھولوں کا گلدستہ پیش کرنے کا فیصلہ کیا اور یکجہتی کشمیر ریلی میں دنیا کے سب سے بڑے پرچم کی رونمائی کی اور یہ پرچم کشمیر کا پرچم تھا۔
ایک سوال کے جواب میں عظمیٰ گل کا کہنا تھا کہ ہم نے معاہدہ کراچی کے تحت اپریل 1948 کو کشمیر کی آزاد حیثیت کو تسلیم کیا تھا لیکن 72 سال گزرنے کے باوجود بھی کشمیر کا مسئلہ جوں کا توں ہے۔ معاہدہ کراچی کے تحت دفاع، مواصلات اور کرنسی کے بنیادی نکات پر عمل کرتے ہوئے ہم نے کشمیر کے دفاع کیلئے افواج پاکستان ، مواصلات یعنی سڑکوں کی تعمیر اور دیکھ بھال کے نظام کے ساتھ پاکستانی کرنسی نافذ العمل کی اور اسی مسئلہ کی وجہ سے پاکستان نے اپنے روایتی حریف بھارت کے ساتھ چار جنگیں بھی لڑیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ 72 سالوں سے کوئی بھی پاکستانی حکومت یا حکمران مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے سنجیدہ نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیر کے وکیل کے طور پر کشمیریوں کا مقدمہ لڑنے سے قاصر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی تقریر کوئی انوکھا کام نہیں تھا بلکہ ماضی کے تمام حکمران اسی طرح کی صرف تقریریں کرتے آئے ہیں۔ پاکستان آج تک کشمیر کیلئے اپنا موثرسفارتی کردار ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔
مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاک فوج کے کردار بارے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ فوج حکومت کے حکم کی پابند ہوتی ہے، پاکستان میں آرمی چیف کا عہدہ انتہائی طاقتور ہے لیکن آرمی چیف کو حکومت کی اجازت سے کام کرنا ہوتا ہے۔ آزاد کشمیر حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ الزام تراشی اور مایوسی پھیلانے کی بجائے عملاََ پہلا فیصلہ کرے ، اپنی دستور ساز اسمبلی میں کوئی ٹھوس قدم اٹھانے کیلئے فیصلہ سازی کرے اس کے بعد پاکستانی حکومت سے باضابطہ مدد طلب کرے، اگر پاکستانی حکومت آزاد حکومت کے ان اقدامات کے باوجود کوئی عملی قدم نہیں اٹھاتی تو پھر پاکستانی حکومت کو قصوروار قرار دیا جا سکتا ہے۔ پاکستانی حکمرانوں کی طرح آزاد کشمیر کے حکمران بھی معاملات طے کر کے آتے ہیں ، مسئلہ کشمیر کی بجائے انہیں ذاتی اور سیاسی مفادات زیادہ عزیز ہیں۔ آزاد کشمیر حکومت کی عملاََ خاموشی مسئلہ کشمیر کی آزادی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ عظمی گل کا مزید کہنا تھا کہ میں کشمیری عوام کے جذبات کا بہت احترام کرتی ہوں اور حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو 80 لاکھ افراد کی جیل بنایا ہوا ہے۔ مسئلہ کشمیر کا حل پاکستانی اور کشمیری عوام کی جذباتیت سے نہیں نکلنا بلکہ حکومتوں کے عملی اقدامات سے یہ مسئلہ حل ہونا ہے۔ حکومتوں کے کام کرنے کا انداز مختلف ہوتا ہے اور پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی ہے۔ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہمیشہ مایوسی پھیلاتے ہیں اور پاکستانی حکومت اور عوام پر الزامات عائد کرتے ہیں کہ ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیںجبکہ در حقیقت آزاد کشمیر حکومت اس پار اور اُس پار کے کشمیریوں کی ترجمان اور فیصلہ کرنے کا حق اور اختیار رکھتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر حکومت نے ہی مشرف کے دور میں ان کا غلط فیصلہ مانتے ہوئے لائن آف کنٹرول پر باڑ لگانے کی حامی بھری تھی۔ آزاد کشمیر حکومت ہمیشہ بکِتی آئی ہے اور ضرورت پڑنے پر بِک جاتی ہے، یہ طفیلی سیاسی جماعتوں کے آلہ کار بنے رہتے ہیں، عظمیٰ گل کا مزید کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی وجہ سے آزاد کشمیر حکومت کی دال روٹی چل رہی ہے اور آزاد حکومت خود نہیں چاہتی کہ یہ مسئلہ حل ہو۔ مسئلہ کشمیر پر ان کا مزید کہنا تھا کہ بد قسمتی سے مقبوضہ کشمیر کی قیادت بھی آج سے پہلے تقسیم کا شکار رہی ہے اور اب مقبوضہ کشمیر کے قائدین بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے فلسفے اور دو قومی نظریے کو درست مان رہے ہیں اور ماضی میںاپنے کیے جانے والے فیصلوں پر ندامت کا اظہار کر رہے ہیں، یہ کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے تمام قائدین اک پیج پر ہیں اور اسی پاداش میں وہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ کشمیر کی تاریخ میں موجودہ تحریک پہلی بار اس انداز میں سامنے آئی ہے جب نہتے کشمیر ی عوام اپنے رہنمائوں کے بغیر خود اپنا مقدمہ لڑ رہے ہیںاور ان کی یہ جدودجہد تاریخ عالم میں سنہری حروف کے ساتھ لکھی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ مظلوم کشمیریوں پر بھارتی جبر کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتاہے کشمیر میں ہر گھر پر ایک بھارتی فوجی تعینات ہےاور مودی جسے میں ’’موذی‘‘ کہتی ہوں اس کی شر پسندانہ پالیسیوںکے نتیجے میں آج مقبوضہ کشمیر میں 8 لاکھ سے زائد بھارتی فوجی تعینات ہیں۔ عظمیٰ گل کا مزید کہنا تھا کہ یہ کشمیریوں کا ہی کمال ہے جو بد ترین حالات میں اپنی تحریک زندہ رکھے ہوئے ہیں اور کربلا کے بعد صرف کشمیر کی ہی مثال پوری دنیا میں جدوجہد کی مثال کے طور پر نظر آتی ہے۔
ان کامزید کہنا تھا کہ پاکستانی قوم کا کشمیریوں کے ساتھ یک جان دو قالب کا رشتہ ہے۔ میرے والد مرحوم جنرل حمید گل کی پیش گوئی کے مطابق وہ وقت دور نہیں جب کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق کشمیر آزاد ہوگا اور غاصب بھارتی حکومت اور فوج کو منہ کی کھانی پڑے گی۔ میرے والد محترم کی بیشتر پیش گوئیاں سچ ثابت ہو چکی ہیں اور مزید بھی سچ ثابت ہونے جا رہی ہیں، پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے خود مسلم امہ کی قیادت کیلئے بنایا ہے اور دنیا میں صرف تین ریاستوں کا قیام نظریات کی بنیاد پر ہوا ہے جن میں پہلی ریاست ، ریاست مدینہ کی تھی اور دوسری پاکستان کی جبکہ تیسری ریاست یہویت کے نظریات کے پرچار کیلئے اسرائیل بنائی گئی۔ پاکستانی عوام بیک وقت اقوام عالم میں مسلم امہ اور دنیا بھر میں موجود مظلوموں کی آواز اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انتہائی مسدود حالات اور قلیل وسائل کے باوجود مسلح افواج پاکستان کے پاس دنیا کی بہترین ایڈوانس ٹیکنالوجی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے ساتھ اللہ رب العزت کی مدد شامل حال ہے۔