کھلاڑیوں کو فی الفور آئیسولیٹڈ کرکے ٹریننگ شروع کردینے کی ضرورت ہے:پرویز شیخ

کوٹری/لاہور(نمائندہ خصوصی)پاکستان کے ٹاپ قومی اثاثہ کھلاڑیوں کو جناح اسپورٹس کمپلیکس اسلام آباد میں فی الفور آئیسولیٹڈ کرکے ٹریننگ شروع کی جائے.انٹرنشنل لیول پر پاکستان کی نمائندگی کرنے والے پلیئرز سماجی معاملات میں پہلے ہی آئیسولیٹڈ رہتے ہیں اور ملکی وقار اور ٹائیٹلز کے دفاع کی خاطر وہ عام میل جول سے پہلے ہی پرہیز کرتے ہیں اس لیئے انہیں اسلام آباد میں میل جول اور بایر نکلنے پر پابندیوں کے ساتھ تربیت کی فراہمی وقت کی اہم اور ہنگامی ضرورت ہے.

اس ضمن میں پاکستان بیس بال و ہاکی فیڈریشن نے گزشتہ ہفتے آواز بلند کی تھی جسکے بعد دیگر فیڈریشنز نے بھی اس کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے گرانٹ دیئے جانے کی اپیلیں کردی ہیں.آئی پی سی نے ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی قیادت میں میڈلسٹ کھلاڑیوں کو انعامات دے کر بہت بہترین کام کیا ہے تاہم کورونا کے باعث چونکہ عالمی مقابلے التواء کا شکار ہیں اور ہمیں ان میں شرکت کے لیئے کافی وقت مل گیا ہے اس لیئے اگر آئی پی سی, عمران خان کے وژن کے مطابق بروقت پاکستان کے اثاثہ و متوقع میڈلسٹ کھلاڑیوں کو آئیسولیٹ کرکے کیمپنگ کرنا ہوگی اور اب جبکہ اسمارٹ لاک ڈائون شروع ہوچکا ہے اس لیئے اب اس معاملے کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو ناقابل تلافی نقصانات ہونگے.اس ضمن میں پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر لیفٹنٹ جنرل(ر) سید عارف حسن کو اس ضمن میں اقدامات کرنا ہونگے اور مائینر گیمز کے 10 سے 15 اور میجر گیمز کے 25 سے 30 ٹاپ کھلاڑیوں کو فی الفور اسلام آباد طلب کرکے حکومتی تحویل میں ایک طرح کے قرنطینہ میں محفوظ ٹریننگ دینے کا بندوبست کیا جائے.اس ضمن میں پاکستان فیڈریشن بیس بال کے صدر سید فخر علی شاہ پہلے ہی اسپورٹسمین وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ کرچکے ہیں کہ کھلاڑیوں اور کوچز کو اسپیشل پیکج دے کر کورونا کی وجہ سے آئیسولیٹڈ کھلاڑیوں یعنی قومی اثاثے کی مستقبل قریب کی کارکردگی میں تنزلی سے نہ صرف بچایا جائے بلکہ میڈلز کی تعداد اور رینکنگ میں اضافے کا باعث بننے کے لیئے معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے.

انہوں نے فیڈریشن کے میڈیا مینیجر اور دیگر میڈیا کے نمائندوں سے لاک ڈائون کے دوران بار بار گفتگو میں اس بات کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیئے گئے تو ہمیں ایشیا میں اپنی رینکنگ بچانا مشکل ہوجائے گا.اس لیئے کھیلوں کے قریب ترین انٹرنیشنل ایونٹس کے شیڈولز کے لحاظ سے اس کھیل کی پوری متوقع پاکستان ٹیموں کو ترتیب وار 2 ہفتے قرنطینہ میں رکھ کر کلیئر کرکے جناح اسٹیڈیم میں لاجنگ, بورڈنگ اور دیگر سہولیات کے ساتھ کیمپنگ کا بندوبست کیا جائے اور قوم کے اس سرمایہ کو نہ صرف کورونا کے خطرات سے بچایا جاسکے گا بلکہ انکا کیریئر بچا کر پاکستان کے رینک کو بین الاقوامی سطح پر برقرار رکھنے میں معاون ہوگا اور فیڈریشن اور خود کھلاڑیوں اور انکے والدین و کوچز کی برسہا برس کی محنت ضایع ہونے سے بچے گی.

حال ہی میں انڈیا کی پوری کی پوری کرکٹ ٹیم نے پیسے اور ملک کے نام کی خاطر مستقبل قریب میں آسٹریلیا سے 4 ٹیسٹ میچز کی سیریز سے نبرآزما ہونے کے لیئے خود کو دو ہفتوں کے لیئے قرنطینہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ ملکی مفاد کی خاطر یہ قربانی دینے کو تیار ہیں.اس لیئے ہم بھی اپنے کھلاڑیوں سے بھی اسی طرح کی امیدیں رکھتے ہیں.اس ضمن میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح سے مختلف فیڈتیشنز نے آن لائن ٹریننگ سسٹم رائج کرکے کھلاڑیوں کو انکے گھروں میں رہتے ہوئے تربیت فراہم کیں تاہم اول الزکر کارکردگی کے حصول کے لیئے یہ ناکافی ہوگا اور آئی پی سی, پاکستان اسپورٹس بورڈ اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو اس اہم مسئلے سے نبردآزما ہونے کے لیئے سرجوڑنا ہونگے.