مقبوضہ کشمیر میں صحافت نشانے پر ۔۔۔ تحریر: انجینئر اصغر حیات

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسسز کے ظلم و جبر سے عام شہری تو کیا صحافی بھی محفوظ نہیں، آئے روز صحافیوں کو گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، پولیس اسٹیشن اور ہراستگی مراکز طلب کرکے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، بھارتی ایجنسیاں صحافیوں کو خبر کا سورس ظاہر کرنے کیلئے دباو ڈالتی ہیں،انکار کی صورت میں ان پر غداری کے مقدمات قائم کرکے انہیں جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے، اپریل کے مہینے میں تین مثالوں سے صورتحال کا بہترین اندازہ کیا جا سکتا ہے، 20 اپریل کو 2020 کو پولیس نے 26 سالہ فوٹو جرنلسٹس مسرت زہرا پر سوشل میڈیا پر ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں غداری کا مقدمہ درج کرلیا، مسرت زہرا کئی عالمی اداروں کے ساتھ کام کرچکی ہیں ، انہوں نے الجزیرہ کو بتایا کہ بھارتی سیکورٹی فورسسز مقبوضہ کشمیر میں صحافت کی آواز کو دبانے کی کوشش کررہی ہیں ، ان کے خلاف مقدمہ گزشتہ برسوں کے دوران شائع ہونے والے کام کو فیس بک پر دوبارہ پوسٹ کرنے پر درج کیا گیا ہے، مسرت زہرا نے یہ بھی بتایا کہ پولیس نے ان کے خلاف مقدمے میں انہیں فیس بک صارف ظاہر کیا، مقدمے میں کہیں بھی صحافی ہونے کا ذکر نہیں کیا گیا، 22 اپریل 2020 کو پولیس نے صحافی پیرزادہ عاشق کیخلاف مقدمہ درج کیا ان پر الزام ہے کہ انہوں نے بھارتی سیکورٹی فورسسز کی فائرنگ سے شہید ہونے والے کشمیریوں کی میتیں ورثا کے حوالے نہ کرنے کی خبردی، جس سے نقص امن کا خدشہ ہے ، پولیس نے ضلع شوپیاں میں ایک مبینہ جھڑپ کے دوران شہید نوجوانوں کو ضلع سے 110 کلو میٹر دور واقع سرحدی ضلع بارہ مولہ کے ایک قبرستان میں دفن کردیا تھا

ایک اور صحافی گوہر گیلانی کو بھی اسی طرح سوشل میڈیا پر پوسٹس کرنے کی پاداش میں طلب کیا گیا ہے،ان کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، متنازعہ قانون یو اے پی اے بھارتی حکومت کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ کسی بھی فرد کو دہشتگرد قرار دے سکتی ہے، اور نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی اس طرح کے کیسز کی تفتیش کرکے سات سال کی سزا دے سکتی ہے۔ گزشتہ چند سالوں کی بات کریں تو درجنوں صحافیوں کو بھارتی فورسسز کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، بھارتی ایجنسیوں کی جانب سے صحافیوں کو تحقیقاتی مراکز بلا کر ان پر دباو ڈالا گیا، 5 اگست 2016 کو صحافی جاوید میر کو کوریج کے دوران بھارتی فوج نے پیلٹ گن کا نشانہ بنایا،جاوید میر نہ صرف بینائی سے محروم ہوا بلکہ اسے صحافت چھوڑنا پڑی، اب وہ بے یار و مدد گار اپنے گھر میں پڑا ہوا ہے، 4 ستمبر 2016 فوٹو جرنلسٹس ضعیب مقبول کو سیکورٹی فورسسز نے پیلٹ گن کا نشانہ بنایا ، ضعیب مقبول ایک آنکھ کی بینائی سے محروم ہوگئے،2017 میں صحافی فہد شاہ کو خبر لگانے کی پاداشت میں کارگو سینٹر بلایا گیا ، جہاں پر بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے آٹھ گھنٹے تک انہیں تفتیش کی، 2018 فہد شاہ کے گھر پر آنسو گیس کے شیل پھینکے گئے ، 15 جون 2018 کو صحافی شجاعت بخاری کو نامعلوم افراد نے دفتر سے نکلتے ہوئے شہید کردیا، جولائی 2018 اخبار کشمیر آبزرور سے وابسطہ صحافی عاقب جاوید بھارتی تحقیقاتی ایجنسی نے نئی دہلی طلب کیا اور تفتیش کے بہانے گھنٹوں ہراساں کیا،31 اگست 2018 کو سیکورٹی فورسسز نے کالے قوانین کے تحت صحافی آصف سلطان کو گرفتار کیا ، 19 اکتوبر 2018 کشمیر ویلا سے تعلق رکھنے والے نوجوان صحافیوں بھٹ برہان اور ثاقب مغلو کو بھارتی فورسسز نے سری نگر میں ان کے آفس سے باہر گھسیٹ کر ان کے ساتھیوں کے ہمراہ بدترین تشدد کا نشانہ بنایا ، شناخت ظاہر کرنے کے باوجود صحافی ثاقب مغل کو ہراست میں لیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے پہلے اور بعد میں بھی بھارتی فورسسز نے میڈیا کیخلاف کریک ڈاون شروع کیا، بھارتی حکومت نے 5 اگست 2019 میں مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافظ کیا لیکن صحافیوں کیخلاف بڑے پیمانے پر کاروائیوں کا آغاز اس سے ایک ماہ قبل ہی ہوگیا تھا.

یکم جولائی 2019 اخبار گریٹر کشمیر کے ایڈیٹر فیاض احمد کو بھارتی تحقیقاتی ایجنسی نے طلب کیا ، ہراساں کیا اور چھ روز تک بلا کر مسلسل دھمکاتے رہے، جولائی 2019 اخبار کشمیر ریڈر کے ایڈیٹر حاجی حیات بھٹ کو بھارتی تحقیقاتی ایجنسی نے طلب کیا اور بار بار ہراساں کیا، 8 اگست 2019 نوجوان صحافی قاضی شبلی کو بھارتی فوج نے کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا، 9 ماہ تک قاضی شبلی کو یو پی کی جیل میں رکھا گیا، 14 اگست 2019 صحافی عرفان ملک کو پولیس نے جنوبی کشمیر ترال سے ان کے گھر سے اٹھایا اور پورا ایک دن تشویش کرتے رہے یکم اکتوبر 2019 کو صحافی گوہر گیلانی کو دہلی کے آئی جی آئی ایئرپورٹ کے ایمیگریشن کاونٹر پر روک لیا گیا اورانہیں بون جانے والے فلائیٹ پر بھیٹنے نہیں دیا گیا، صحافی گوہر گیلانی کیخلاف 22 اپریل 2020 کو پولیس کے سائبر ونگ نے ایک اور مقدمہ درج کرلیا ، یکم اکتوبر 2019 کو انگریز اخبار دی ہندو سے وابسطہ صحافی پیرزادہ عاشق کو کوٹھی باغ پولیس اسٹیشن طلب کیا گیا اور انہیں خبر کا سورس ظاہر کرنے کیلئے دباو ڈالا گیا، 30 نومبر2019 اکنامک ٹائمز سے وابسطہ صحافی حکیم عرفان کو انسداد بغاوت سینٹر طلب کیا گیا اور ان سے انکوائری کی گئی۔

30 نومبر 2019 انڈین ایکسپریس سے تعلق رکھنے والے صحافی بشارت مسعود کو انسداد بغاوت سینٹر طلب کرکے پوچھ گچھ کی گئی اور خبر کا سورس بتانے کیلئے شدید دباو ڈالا گیا ، 17 اپریل 2020 صحافی مشتاق احمد کو لاک ڈاون کے دوران پولیس نے گرفتار کیا اور بدترین تشدد کا نشانہ بنایا، مسرت زہرا ، پیرزادہ عاشق اور گوہر گیلانی کی مثالیں میں اوپر دے چکا،جن کیخلاف اپریل کے آخر میں مقدمات قائم کیے گئے، گزشتہ ماہ ان مقدمات کی رفتار میں تیزی آئی ہے، ڈومیسائل قانون لانے کے بعد مودی سرکار نے میڈیا کیخلاف کریک ڈاون تیز کردیا ہے، اس قانون کے تحت 3 لاکھ ہندووں کو مقبوضہ کشمیر کا ڈومیسائل جاری کردیا گیا ہے، آنے والے دنوں میں مزید 14 لاکھ ہندووں کو ڈومیسائل جاری کرنے کی منصوبہ بندی ہے، ایک خطرناک منصوبہ یہ بھی ہے کہ مقبوضہ وادی میں تعینات 8 لاکھ بھارتی فوجیوں اور 6 لاکھ دیگر افراد کو ڈومیسائل دیا جائے۔

کشمیری جو گزشتہ سال پانچ اگست سے بدترین لاک ڈاون کا شکار ہیں، اب بھارتی حکومت نے کورونا کا بہانہ بنا کر مقبوضہ کشمیر میں پابندیاں مزید سخت کردی ہیں، یہاں پر پاکستانی حکومت کی پالیسی بھی روایتی بیان بازی تک محدود ہے، مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروس کی بندش کے باعث ہزاروں صحافی پہلے ہی بے روزگار ہو چکے، جو بچے ہیں وہ چھوٹی چھوٹی خبروں پر غداری کے مقدمات کا سامنا کررہے ہیں، اللہ تعالی مقبوضہ کشمیر کے صحافیوں کو استقامت عطا فرمائے اور ہمیں ان کے حق میں آواز بلند کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔